انسانی کہانیاں عالمی تناظر

فلٹر کریں

خصوصی مضامین

روانڈا میں ایک نوجوان لڑکا ، جس کی شناخت ایجیہوزو کیون ، 11 ، کے طور پر کی گئی ہے ، کورونا وائرس وبائی امراض کی وجہ سے اسکول بند ہونے کی وجہ سے گھر میں پڑھتے ہوئے ریڈیو پر اپنے پرائمری 5 کے سبق سن رہا ہے۔ وہ ایک ریڈیو اور ایک قلم پکڑ رہا ہے ، اپنے نوٹ بک پر مرکوز ہے۔
© UNICEF/Habib Kanobana

جنگ کے میدانوں سے خلاء کی وسعتوں تک ریڈیو آج بھی کارآمد

دنیا ٹیلی ویژن، کمپیوٹر اور موبائل فون کی روشن سکرینوں میں جتنی بھی کھو جائے، ریڈیو کی خاموش مگر مضبوط موجودگی برقرار ہے جس کی لہریں وہاں تک پہنچ جاتی ہیں جہاں نظر نہیں پہنچ سکتی۔ کہیں یہ جدید ٹیکنالوجی سے ہم قدم ہے اور کہیں ایسی جگہوں پر لوگوں کا واحد اور ناگزیر سہارا بن جاتا ہے جہاں دوسری ٹیکنالوجی ساتھ نہیں دے پاتی۔

ویلیریا Palacios، میکسیکو میں ایک نوجوان خاتون انجینئر، ایک بیرونی میدان میں ڈرون ٹیسٹ کر رہی ہے۔
Cortesía Valeria Palacios

شعبہ سائنس میں گریجویٹ خواتین کا تناسب صرف 35 فیصد کیوں؟

اگرچہ خواتین نوجوان مردوں کے مقابلے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی زیادہ خواہش رکھتی ہیں لیکن تحقیق کے لیے ناکافی وسائل، صنفی تعصبات اور امتیازی دفتری رویوں کے باعث سائنس کے شعبے میں گریجوایٹ خواتین کا تناسب صرف 35 فیصد ہے۔

ریڈ ہیڈ سکارف پہنے ایک خاتون اورنج ہیڈ سکارف پہنے ایک نوجوان لڑکی کے سر کو ہلکے سے چھو رہی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا رہے ہیں۔ یہ تصویر صومالیہ میں خواتین کے عضو تناسل کے منقطع ہونے کے خلاف لچک اور کمیونٹی مزاحمت کی علامت ہے۔
© UNFPA/Usame Nur Hussein

عقیدہ، فتوے اور مغالطے: خواتین کے جنسی اعضاء کی بریدگی کے خلاف مہم

تنزانیہ کی 19 سالہ اولیویا البرٹ کو 14 برس کی عمر میں اپنے جنسی اعضا کی بریدگی (ایف جی ایم) کے تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑا۔ ان کے قریبی لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ معمول کی بات ہے لیکن اولیویا کو احساس تھا کہ جو کچھ ان کے ساتھ ہوا وہ ایسا نہیں تھا جس کا سامنا کسی بھی لڑکی کو ہونا چاہیے۔

ایک خاتون اپنے اسمارٹ فون کا استعمال کر رہی ہے، ممکنہ طور پر سوشل میڈیا کے مواد سے منسلک ہو رہی ہے، سائبر ہراساں کرنے اور گہری جعلی زیادتی کے مسائل کو اجاگر کر رہی ہے۔
© Unsplash/Finn

ڈیپ فیک میڈیا کے ذریعے کیا گیا استحصال بھی زیادتی ہے، یونیسف کا انتباہ

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے بچوں کی جعلی (ڈیپ فیک) جنسی تصاویر بنانے کے رجحان میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اسے روکنے کے لیے قوانین کی سخت کمی ہے۔

جنوبی باہیا، برازیل میں ایک کاکاؤ زرعی جنگلات کا ہوائی منظر، سونے کے غروب آفتاب کے دوران قبضہ کیا گیا.
© Belterra/Daniel Torres

موسمیاتی بحران: شہری کی بجائے قصباتی رہن سہن کا بڑھتا رحجان

دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی قصبوں اور شہروں میں رہتی ہے جو موسمیاتی بحران کو بڑھانے والی گرین ہاؤس گیسوں کے تقریباً 70 فیصد اخراج کے ذمہ دار ہیں۔ برازیل میں شہروں کی ساخت میں ایسی تبدیلی پر کام ہو رہا ہے جس سے اس مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

لاہور، پاکستان میں ایچ آئی وی / ایڈز کی مدد کے لئے محفوظ جگہ کے ایک حصے میں ایک کمرے میں کشنوں پر بیٹھے افراد کا ایک گروپ، کچھ ماسک پہنے ہوئے۔
© UNDP

پاکستان میں خواجہ سراؤں کے لیے من کی بات کرنے کی محفوظ جگہوں کا قیام

پرانے لاہور کے ایک گنجان آباد علاقے میں عام نظروں سے اوجھل ایک ایسی جگہ بھی ہے جہاں معاشرے کے نظر انداز کیے گئے لوگوں کو پناہ ملتی ہے۔ اس جگہ کی نشاندہی کے لیے نام کی کوئی تختی وغیرہ موجود نہیں۔ لوہے کے ایک سیاہ رنگ دروازے پر دستک دی جائے تو اندر سے آنے والی آواز شناخت پوچھتی ہے جسے بتانے کے بعد داخلے کی اجازت مل جاتی ہے۔

media:entermedia_image:2e6a57e2-e968-49e2-908c-ff5cc1d96aa0
© ILO/Jean‐Pierre Pellissier

کیا کارکن مصنوعی ذہانت کے دور میں آجروں کے لیے مفید رہ سکیں گے؟

مصنوعی ذہانت (اے آئی) انسان کی زندگی کو بدلنے جا رہی ہے، لیکن اس سے روزگار کے خاتمے اور سماجی و معاشی عدم مساوات میں اضافے کا حقیقی خطرہ بھی موجود ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین اس بات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں کہ اس تبدیلی کو کیسے سنبھالا جائے تاکہ ٹیکنالوجی کے فوائد اس کے نقصانات پر غالب آ سکیں۔

ایک سرخ لباس میں ایک عورت نے بنگلہ دیش کے ایک خشک علاقے میں ایک چھوٹا سا پانی بہایا ۔
© UNDP/Ab Rashid

دنیا ’آبی دیوالیہ پن‘ کے دور میں داخل ہوچکی، یو این رپورٹ

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا میں پانی کے مسائل کو اب محض بحرانی کیفیت نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جسے عالمگیر آبی دیوالیہ پن کہنا بے جا نہ ہو گا۔